hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 10754

.

ابن أبي شيبة

10754
Ibn Abi Shaybah
(۱۰۷۵۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ ، عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ أَتَیْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ الأَرْقَمِ ، قَالَ وَکَانَ عَلَی بَیْتِ الْمَالِ فِی إمْرَۃِ عُمَر وَفِی إمْرَۃِ عُثْمَانَ وَہُوَ یَقْسِمُ صَدَقَۃً بِالْمَدِینَۃِ ، فَلَمَّا رَآنِی ، قَالَ : مَا جَائَ بِکَ یَا أُمَّ زِیَادٍ ، قَالَتْ قُلْتُ لَہُ : لِمَا جَائَ لَہُ النَّاسُ ، قَالَ ہَلْ عَتَقْتِ بَعْدُ ؟ قُلْتُ : لاَ ، فَبَعَثَ إلَی بَیْتِہِ فَأُتِیَ بِبُرْدٍ فَأَمَرَ لِی بِہِ ، وَلَمْ یَأْمُرْ لِی مِنَ الصَّدَقَۃِ بِشَیْئٍ لأَنِّی کُنْت مَمْلُوکَۃً۔
(١٠٧٥٤) حضرت زیاد بن ابو مریم اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی والدہ حضرت عبداللہ بن ارقم کے پاس آئیں۔ وہ حضرت عمر اور حضرت عثمان کی امارت میں بیت المال (کے نگران) تھے۔ اور وہ صدقہ (زکوۃ ) تقسیم فرما رہے تھے مدینہ والوں کے ساتھ، جب انھوں نے مجھے دیکھا تو فرمایا : اے ام زیاد تو یہاں کیوں آئی ؟ تو میں نے جواب دیا کہ جس مقصد کے لیے باقی لوگ آئے ہیں میں بھی اس ہی مقصد سے آئی ہوں۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا تو آزاد ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں، تو انھوں نے کسی کو گھر بھیجا جو چادر لے کر آیا۔ آپ نے وہ مجھے دے دی۔ لیکن صدقہ (زکوۃ ) میں سے کچھ نہ دیا۔ کیونکہ میں اس وقت مملوکہ تھی۔