hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 10787

.

ابن أبي شيبة

10787
Ibn Abi Shaybah
(۱۰۷۸۷) الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ ہَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، عَنْ کِنَانَۃَ بْنِ نُعَیْمٍ ، عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ الْمُخَارِقِ الْہِلاَلِیِّ ، قَالَ تَحَمَّلْت حَمَالَۃً فَأَتَیْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُہُ فِیہَا ، فَقَالَ : أَقِمْ یَا قَبِیصَۃُ ، حَتَّی تَأْتِیَنَا الصَّدَقَۃُ نَأْمُرْ لَکَ بِہَا ، قَالَ : قَالَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا قَبِیصَۃُ ، إنَّ الْمَسْأَلَۃَ لاَ تَحِلُّ إِلاَّ لأَحَدِ ثَلاَثَۃٍ : رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَۃً فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتَّی یُصِیبَہَا ، ثُمَّ یُمْسِکُ , وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ جَائِحَۃٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَہُ فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتَّی یُصِیبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ ، ثُمَّ یُمْسِکُ , وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ فَاقَۃٌ حَتَّی یَقُولَ ثَلاَثَۃٌ مِنْ ذَوِی الْحِجَا مِنْ قَوْمِہِ قَدْ أَصَابَتْ فُلاَنًا فَاقَۃٌ , فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتَّی یُصِیبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ ، ثُمَّ یُمْسِکُ ، یَا قَبِیصَۃُ ، مَا سِوَاہُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَۃِ سُحْتٌ یَأْکُلُہَا صَاحِبُہَا۔ (مسلم ۱۰۹۔ ابوداؤد ۱۶۳۷)
(١٠٧٨٧) حضرت قبیصہ بن المخارق الھلالی فرماتے ہیں کہ میں مقروض ہوگیا تو میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں سوال کرنے کی غرض سے حاضر ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے قبیصہ ٹھہر جا یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ (کا مال) آجائے تو ہم اس میں سے تیرے لیے حکم فرمائیں۔ پھر مجھ سے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سوال کرنا تین اشخاص کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔ ایک وہ شخص جو مقروض ہوگیا ہو توا س کیلئے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اس سے ادا کر دے اور پھر (سوال کرنے سے) رک جائے، دوسرا وہ شخص جس کو کوئی آفت پہنچے اور وہ اس کے مال کو ھلاک کر دے تو اس کیلئے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کے رہن سہن کی زندگی کو کچھ تقویت پہنچے اور وہ پھر (سوال کرنے سے) رک جائے، اور تسرہا وہ شخص جس کو فاقہ پہنچے یہاں تک کہ تین صاحب رائے شخص اس کے قبیلہ کے یہ کہیں کہ تحقیق فلاں کو فاقہ پہنچا ہے، تو اس کئے نچ سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کے رہن سہن کو تقویت ملے پھر وہ (سوال کرنے سے) رک جائے، اے قبیصہ ان کے علاوہ سوال کرنے والا حرام کھانے والا ہے۔