(۱۰۷۹۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ حِصْنٍ ، قَالَ : نَزَلْتُ دَارَ أَبِی سَعِیدٍ فَضَمَّنِی وَإِیَّاہُ الْمَجْلِسُ فَحَدَّثَنِی ، أَنَّہُ أَصْبَحَ ذَاتَ یَوْمٍ وَقَدْ عَصَبَ عَلَی بَطْنِہِ مِنَ الْجُوعِ ، قَالَ : فَأَتَیْت النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَکْتُ مِنْ قَوْلِہِ وَہُوَ یَقُولُ : مَنْ یَسْتَعْفِفْ یُعِفُّہُ اللَّہُ وَمَنْ یَسْتَغْنِ یُغْنِہِ اللَّہُ وَمَنْ سَأَلَنَا إمَّا أَنْ نَبْذُلَ لَہُ , وَإِمَّا أَنْ نُوَاسِیَہُ وَمَنْ یَسْتَغْنِ ، أَو یَسْتَعْفِفْ عَنَّا خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَسْأَلَنَا ، قَالَ : فَرَجَعْت فَمَا سَأَلْتُہُ شَیْئًا۔ (نسائی ۲۳۶۹۔ احمد ۳/۴۴)
(١٠٧٩١) حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ ایک دن بھوک کی وجہ سے میں نے اپنے پیٹ پر پٹی باندھ لی، پھر میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص پاکدامنی اختیار کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو پاکدامن رکھتا ہے اور جو استغناء چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو مستغنی فرما دیتا ہے اور جس نے ہم سے سوال کیا یا تو ہم اس کو خرچہ دے دیں گے یا اس کی امداد کردیں گے۔ (لیکن) جو مستغنی اور (سوال کرنے سے) پاکدامن رہا ہم سے یہ بہتر ہے اس سے کہ ہم سے سوال کرے۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں واپس لوٹ گیا اور کسی چیز کا سوال نہ کیا۔