(۱۰۷۹۶) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِی الشَّعْثَائِ ، عَنْ أَسْوَدَ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ زَہْدَمٍ ، قَالَ : انْتَہَی قَوْمٌ مِن ثَعْلَبَۃَ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یَخْطُبُ وَہُوَ یَقُولُ : یَدُ الْمُعْطِی : الْعُلْیَا وَیَدُ السَّائِلِ : السُّفْلَی , وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ : أُمَّک وَأَبَاک وَأُخْتَکَ وَأَخَاک وَأَدْنَاک فَأَدْنَاک۔ (طیالسی ۱۲۵۷۔ مسندہ ۶۳۴)
(١٠٧٩٦) حضرت ثعلبہ بن زھدم سے مروی ہے کہ ثعلبہ کی قوم حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچی اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ دینے والا ہاتھ اوپر والا ہے اور لینے والا ہاتھ نیچے والا ہے اور دینے میں ان لوگوں سے ابتدا کر جو تیری کفالت میں ہیں۔ تیری ماں، تیرا باپ، تیری بہن، تیرا بھائی، جو تیرا قریبی ہے اور جو اس سے قریبی ہے۔