(۱۰۸۰۵) خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ أَبِی ہَاشِمٍ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ فِی قولہ تعالی : (سَیُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ) قَالَ : ہُوَ الرَّجُلُ یَرْزُقُہُ اللَّہُ الْمَالَ فَیَمْنَعُ قَرَابَتَہُ الْحَقَّ الَّذِی فِیہِ فَیُجْعَلُ حَیَّۃً فَیُطَوَّقُہَا فَیَقُولُ : مَا لِی وَمَا لَکَ ؟ فَیَقُولُ الْحَیَّۃُ : أَنَا مَالُک۔
(١٠٨٠٥) حضرت مسروق اللہ پاک کے ارشاد { سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے وہ شخص مراد ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال کی نعمت عطا فرمائی لیکن اس نے قرابت دار کو اس کا حق ادا نہ کیا، تو وہ مال اس کے لیے سانپ بنادیا جائے گا جس کا اس کو طوق پہنایا جائے گا، تو وہ کہے گا، میرے اور تیرے درمیان کیا تعلق ہے ؟ (یعنی تو مجھ کو کیوں چمٹ گیا ہے ؟ ) سانپ اس سے کہے گا میں تیرا مال ہوں۔