hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 10846

.

ابن أبي شيبة

10846
Ibn Abi Shaybah
(۱۰۸۴۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُسْتَوْرِدِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا قِلاَبَۃَ یُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، قَالَ : بَعَثَ أَبُو بَکْرٍ الْمُصَدِّقِینَ فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَبِیعُوا الْجَذَعَۃَ بِأَرْبَعِینَ وَالْحِقَّۃَ بِثَلاَثِینَ ، وَابْنَ لَبُونٍ بِعِشْرِینَ , وَبِنْتَ مَخَاضٍ بِعَشَرَۃٍ , فَانْطَلَقُوا فَبَاعُوا مَا بَاعُوا بِقِیمَۃِ أَبِی بَکْرٍ ، ثُمَّ رَجَعُوا حَتَّی إذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ بَعَثَہُمْ فَقَالُوا : لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا ، فَقَالَ : زِیدُوا فِی کُلِّ سِنٍّ عَشَرَۃً ، فَلَمَّا أن کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ بَعَثَہُمْ فَقَالُوا : لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا شَیْئًا ، فَلَمَّا وَلِیَ عُمَرُ بَعَثَ عُمَّالَہُ بِقِیمَۃِ أَبِی بَکْرٍ الآخِرَۃِ حَتَّی إذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ ، قَالَ الْعُمَّالُ لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا ، فَقَالَ : زِیدُوا فِی کُلِّ سِنٍّ عَشْرَۃً حَتَّی إذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ بَعَثَہُمْ بِالْقِیمَۃِ الآخِرَۃِ فَقَالُوا : لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا ، قَالَ : لاَ حَتَّی إذَا وَلِیَ عُثْمَانُ بَعَثَ بِقِیمَۃِ عُمَرَ الآخِرَۃِ حَتَّی إذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا : لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا ، قَالَ : زِیدُوا فِی کُلِّ سِنٍّ عَشَرَۃً حَتَّی إذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا : لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا ، قَالَ : لاَ , فَلَمَّا وَلِیَ مُعَاوِیَۃُ بَعَثَ بِقِیمَۃِ عُثْمَانَ الآخِرَۃِ ، فَلَمَّا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا : لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا ، قَالَ : زِیدُوا فِی کُلِّ سِنٍّ عَشَرَۃً , حَتَّی إذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالُوا : لَوْ شِئْنَا أَنْ نَزْدَادَ ازْدَدْنَا ، قَالَ : خُذُوا الْفَرَائِضَ بِأَسْنَانِہَا ، ثُمَّ سَمُّوہَا وَأَعْلِنُوہَا ، ثُمَّ خالِسُوہُمْ لِلْبَیْعِ فَمَا اسْتَطَاعُوا أن ینتقصوا وَمَا اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَزْدَادُوا فَازْدَادُوا ، قَالَ عَبْدُ اللہِ : فَرَأَیْت عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَأَنَّہُ لَمْ یَرَ بِذَلِکَ بَأْسًا ، فَقَالَ لأَبِی قِلاَبَۃَ : فَکَیْفَ کَانَتْ صَدَقَۃُ الْغَنَمِ ؟ قَالَ : کَانَتِ الصَّدَقَۃُ تُؤْخَذُ فَتُقْسَمُ فِی فُقَرَائِ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ حَتَّی إذْ کَانَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ أَمَرَ بِہَا فَقُسِمَتْ أَخْمَاسًا فَجَعَلَ لِلْمِسْکِینَۃِ خُمُسًا مِنْہَا ، ثُمَّ لَمْ یَزَلْ ذَلِکَ إلَی الْیَوْمِ۔
(١٠٨٤٧) حضرت عبداللہ بن المستورد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو قلابہ کو حضرت عمر بن عبد العزیز کے سامنے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ : حضرت صدیق اکبر نے صدقہ وصول کرنے والوں کو (مختلف شہروں کی طرف) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ وہ جذعہ کو چالیس، حقہ کو تیس، ابن لبون کو بیس اور بنت مخاض کو عشرۃ کے بدلے فروخت کردو۔ چنانچہ صدقہ وصول کرنے والے چل پڑے اور انھوں نے اس قیمت پر ان کو فروخت کیا جو حضرت ابوبکر نے مقرر فرمائی تھی پھر واپس آگئے پھر جب آئندہ سال ان کو دوبارہ بھیجنے لگے تو انھوں نے عرض کیا کہ اگر ہم چاہیں تو ہم اس قیمت میں کچھ اضافہ کرلیں، آپ نے فرمایا ہر سال دس کا اضافہ کرلینا۔ پھر آئندہ سال جب ان کو بھیجنے لگے تو انھوں نے عرض کیا : اگر ہم چاہیں تو اس میں اضافہ کرلیں۔
پھر جب حضرت عمر فاروق خلیفہ بنے تو آپ نے حضرت صدیق اکبر کی مقرر کردہ آخری قیمت پر عاملوں کو (مختلف شہروں میں) بھیجا۔ پھر آئندہ سال آیا تو عاملوں نے عرض کیا : اگر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو اضافہ کرلیں گے۔ آپ نے فرمایا ہر سال دس کا اضافہ کرلیا کرو۔ پھر جب اگلے سال ان عاملوں کو بھیجا تو وہ پھر کہنے لگے اگر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو اضافہ کرلیں آپ نے فرمایا نہیں اب اضافہ نہیں کرنا۔
پھر جب حضرت عثمان غنی خلیفہ بنے تو آپ نے حضرت عمر کی مقرر کردہ آخری قیمت پر اپنے عامل روانہ فرمائے پھر جب اگلا سال آیا تو عامل کہنے لگے کہ اگر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو اضافہ کرلیں، آپ نے فرمایا ہر سال دس کا اضافہ کرلو۔ پھر آئندہ سال جب آیا تو انھوں نے (پھر) عرض کیا کہ اگر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو اضافہ کرلیں آپ نے فرمایا نہیں۔
پھر جب حضرت امیر معاویہ امیر مقرر ہوئے تو انھوں نے حضرت عثمان غنی کی مقرر کردہ آخری قیمت پر بھیجے۔ پھر جب اگلا سال آیا تو عامل کہنے لگے اگر ہم اس میں کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو کرلیں۔ آپ نے فرمایا ہر سال دس کا اضافہ کرلو۔ پھر آئندہ سال انھوں نے کہا اگر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہیں تو اضافہ کرلیں۔ آپ نے فرمایا فرائض کو ان کی عمر کے حساب سے لے لو پھر ان کے نام رکھو اور ان کا اعلان (مشہور کردو) کرواؤ۔ پھر ان کو فوراً بیچ دو ۔ اگر تو کم کرنے کی طاقت رکھو (تو کم کردو) اور اگر تم قیمت زیادہ کرنے کی طاقت رکھو تو زیادہ کرلو۔
راوی حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو دیکھا کہ وہ اس میں کچھ بھی حرج نہ سمجھتے تھے۔ انھوں نے حضرت ابو قلابہ سے فرمایا کہ بکریوں کی زکوۃ کیسے وصول کریں ؟ آپ نے فرمایا زکوۃ وصول کر کے دیہات (اور جنگل) کے فقراء میں تقسیم کردو۔ پھر حضرت عبد الملک بن مروان نے اس کا حکم دیا اور خمس خمس کر کے اس کو تقسیم کیا۔ اور (ہر) مسکین کے لیے اس میں خمس رکھا جو آج تک مسلسل جاری ہے۔