(۱۰۸۵۰) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّہُ قَالَ : إذَا کَانَ فِی الأَرْضِ بُرٌّ وَشَعِیرٌ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہَا أَقَلُّ مِنْ خَمْسَۃِ أَوْسَاقٍ فَإِذَا جَمَعَہُمَا کَانَ فیہِمَا خَمْسَۃُ أَوْسَاقٍ ، أَوْ أَکْثَرُ کَانَ فِیہِمَا الصَّدَقَۃُ لأَنَّ کُلَّہُ زَرْعٌ فَإِذَا کَانَ بُرٌّ وَزَبِیبٌ وَہُوَ لاَ یَبْلُغُ خَمْسَۃَ أَوْسَاقٍ فَلَیْسَ فِیہِ شَیْئٌ حَتَّی یَبْلُغَ مِنْ کُلِّ صِنْفٍ خَمْسَۃَ أَوْسَاقٍ فَإِذَا بَلَغَ فَفِیہِ الْعُشْرُ۔
(١٠٨٥٠) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب زمین سے گندم یا جو نکلے اور دونوں میں سے ہر ایک پانچ وسق (خاص مقدار) سے کم ہو اور جب ان دونوں کو جمع کریں پانچ وسق یا اس سے زائد بنتے ہوں تو دونوں پر زکوۃ ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کھیتی ہے۔ اور اگر گندم اور کشمش ہوں اور وہ پانچ وسق نہ بنتے ہوں تو ان پر اس وقت تک کچھ نہیں ہے جب تک کہ ان میں سے ہر ایک پانچ وسق کی مقدار کو پہنچ جائیں۔ جب پانچ وسق ہوجائیں تو اس میں پھر عشر ہے۔