(۱۰۸۸۸) حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ صَخْرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِی بَکْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبِی ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَأَقْنَائٌ فِی الْمَسْجِدِ مُعَلَّقَۃٌ ، وَإِذَا فِیہِ قِنْوٌ فِیہِ جَدَرٌ، وَمَعَہُ عُرْجُونٌ ، أَوْ عَصًا ، فَطَعَنَ فِیہِ ، وَقَالَ : مَنْ جَائَ بِہَذَا ؟ قَالُوا : فُلاَنٌ ، قَالَ : بَؤُسَ أُنَاسٌ یُمْسِکُونَ صَدَقَاتِہِمْ، ثُمَّ یُطْرَحُ بِالْعَرَائِ فَلاَ تَأْکُلُہَا الْعَافِیَۃُ یہَاجر کَل بَرْقِۃ وَرَعْدَۃ إلَی الشَّامِ۔(ابوداؤد ۱۶۰۴۔ احمد ۶/۲۸)
(١٠٨٨٨) حضرت عمر ابن ابی بکر کے والد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لائے تو کھجوروں کے گچھے مسجد میں لٹکے ہوئے تھے اور ان میں سے ایک گچھے پر کچھ خراب کھجوریں تھیں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک لاٹھی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ گچھے پر ماری اور فرمایا یہ کون لایا ہے ؟ لوگوں نے بتایا فلاں آدمی لایا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان لوگوں کے لیے تباہی ہے جو پہلے اپنے صدقات روک کر رکھتے ہیں (حدیث کے آخری حصہ کا معنیٰ محقق محمد عوامہ کے لیے بھی واضح نہیں ہوسکا، دیکھیے حاشیہ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٧ ص ٧٩)