(۱۰۸۹۲) عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنِ السُّدِّیِّ ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ ، عَنِ الْبَرَائِ فِی قولہ تعالی : {وَلاَ تَیَمَّمُوا الْخَبِیثَ} قَالَ : نَزَلَتْ فِینَا کُنَّا أَصْحَابَ نَخْلٍ ، فَکَانَ الرَّجُلُ یَأْتِی مِنْ نَخْلِہِ کَقَدْرِ قِلَّتِہِ وَکَثْرَتِہِ ، قَالَ : فَکَانَ الرَّجُلُ یَأْتِی بِالْقِنْوِ وَالرَّجُلُ یَأْتِی بِالْقِنْوَیْنِ , فَیُعَلِّقُہُ فِی الْمَسْجِدِ ، قَالَ وَکَانَ أَہْلُ الصُّفَّۃِ لَیْسَ لَہُمْ طَعَامٌ، فَکَانَ أَحَدُہُمْ إذَا جَائَ أتی الْقِنْوِ فَضَرَبَہُ بِعَصًا فَیَسْقُطُ مِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ فَیَأْکُلُ وَکَانَ أُنَاسٌ مِمَّنْ لاَ یَرْغَبُ فِی الْخَیْرِ فَیَأْتِی أَحَدُہُمْ بِالْقِنْوَ فِیہِ الْحَشَفُ , وَفِیہِ الشِّیصُ , وَیَأْتِی بِالْقِنْوِ قَدِ انْکَسَرَ فَیُعَلِّقُہُ ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّہُ تعالی: {وَلاَ تَیَمَّمُوا الْخَبِیثَ مِنْہُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِیہِ إِلاَّ أَنْ تُغْمِضُوا فِیہِ} قَالَ : لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ أُہْدِیَ إلَیْہِ مِثْلُ مَا أَعْطَی لَمْ یَأْخُذْہُ إِلاَّ عَلَی إغْمَاضٍ وَحَیَائٍ ، قَالَ : فَکَانَ بَعْدَ ذَلِکَ یَأْتِی الرَّجُلُ بِصَالِحِ مَا عِنْدَہُ۔ (ترمذی ۲۹۸۷۔ ابن ماجہ ۱۸۲۲)
(١٠٨٩٢) حضرت برائ فرماتے ہیں کہ { وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ } ہمارے بارے میں نازل ہوئی۔ ہماری قوم کھجوروں والی تھی۔ ہم میں سے (ہر شخص) قلت اور کثرت کی بقدر کھجوریں لایا کرتا۔ پس کوئی شخص ایک خوشہ اور کوئی دو خوشے لا کر مسجد میں لٹکا دیتا، اصحاب صفہ کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہوتا ان میں سے کوئی شخص آتا اور لاٹھی سے کھجور کے خوشہ پر ضرب لگاتا تو اس میں خشک اور تر کھجوریں گرتیں جن کو وہ کھا لیتا، کچھ لوگ (ہم میں سے) خیر کے کاموں کی طرف راغب نہ تھے وہ خراب اور فاسد کھجوروں کا خوشہ لے کر آتے اور اس کو مسجد میں لٹکا دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی آیت { وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہ } نازل فرمائی۔ اور فرمایا تم میں سے کوئی شخص جو کچھ ادا کرتا ہے اگر اس کے مثل اس کو ہدیہ کیا جائے تو وہ اس کو ہلکا سمجھتے ہوئے آنکھیں بند کر کے حیاء کی وجہ سے لیتا ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ہر شخص ہم میں سے عمدہ اور اچھا مال صدقہ کرتا۔