(۱۰۹۱۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِی سَیْفٍ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ غُطَیْفٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ نَعُودُہُ فَإِذَا وَجْہُہُ مِمَّا یَلِی الْجِدَارَ وَامْرَأَتُہُ قَاعِدَۃٌ عِنْدَ رَأْسِہِ قُلْتُ : کَیْفَ بَاتَ أَبُو عُبَیْدَۃَ قَالَتْ بَاتَ بِأَجْرٍ فَأَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ ، فَقَالَ : إنِّی لَمْ أَبِتْ بِأَجْرٍ , وَمَنِ ابْتَلاَہُ اللَّہُ بِبَلاَئٍ فِی جَسَدِہِ فَہُوَ لَہُ حِطَّۃٌ۔
(١٠٩١٢) حضرت عیاض بن غطیف فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابو عبیدہ بن جراح کی عیادت کیلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کا چہرہ دیوار کی جانب تھا اور آپ کی اہلیہ آپ کے سر کے پاس بیٹھی تھی۔ میں نے عرض کیا حضرت ابو عبیدہ نے رات کیسے گذاری ؟ اہلیہ نے فرمایا انھوں نے رات اجر کی حالت میں گذاری۔ حضرت ابو عبیدہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا میں نے رات اجر کماتے ہوئے نہیں گذاری جس شخص کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف دے کر آزماتا ہے تو وہ تکلیف اس کے گناہوں کے گرنے کا سبب بنتی ہے۔