hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 10917

.

ابن أبي شيبة

10917
Ibn Abi Shaybah
(۱۰۹۱۸) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَوْہَبٍ ، قَالَ انْطَلَقْت مَعَ سَلْمَانَ إلَی صَدِیقٍ لَہُ یَعُودُہُ مِنْ کِنْدَۃَ ، فَقَالَ : إنَّ الْمُؤْمِنَ یُصِیبُہُ اللَّہُ بِالْبَلاَئِ ، ثُمَّ یُعَافِیہِ فَیَکُونُ کَفَّارَۃً لِسَیِّئَاتِہِ وَیُسْتَعْتَبُ فِیمَا بَقِیَ وَإِنَّ الْفَاجِرَ یُصِیبُہُ اللَّہُ بِالْبَلاَئِ ، ثُمَّ یُعَافِیہِ فَیَکُونُ کَالْبَعِیرِ عَقَلَہُ أَہْلُہُ لاَ یَدْرِی لِمَ عَقَلُوہُ ، ثُمَّ أَرْسَلُوہُ فَلاَ یَدْرِی لِمَ أَرْسَلُوہُ۔
(١٠٩١٨) حضرت سعید بن موھب فرماتے ہیں کہ میں حضرت سلمان کے ساتھ ان کے دوست کی عیادت کے لیے کندہ سے چلا، آپ نے فرمایا مسلمان کو جب کوئی تکلیف اللہ پہنچاتا ہے پھر اس کو دور کرتا ہے تو وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے، اور راضی کردیا جاتا ہے جو کچھ باقی ہے اس میں۔ اور گناہ گار اور فاجر کو جب اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف پہنچاتا ہے۔ پھر اس کو عافیت دیتا ہے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہوجاتا ہے جس کا مالک اس کی ران اور کلائی کو باندھ دے تاکہ وہ چل نہ سکے اس کو نہیں پتا کہ اس کو کیوں باندھا گیا ہے اور پھر اس کو چھوڑ دیا جائے تو اس کو نہیں معلوم کہ کیوں چھوڑا گیا ہے۔