(۱۰۹۲۵) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : دَخَلَ أَبُو الْعَالِیَۃِ عَلَی النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ یَعُودُہُ ، قَالَ : کُنَّا نَتَحَدَّثُ مُنْذُ خَمْسِینَ سَنَۃً ، أَنَّہُ مَا مِنْ عَبْدٍ یَمْرَضُ إِلاَّ قَامَ مِنْ مَرَضِہِ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ وَکُنَّا نَتَحَدَّثُ مُنْذُ خَمْسِینَ سَنَۃً ، أَنَّہُ مَا مِنْ عَبْدٍ یَمْرَضُ إِلا قَالَ اللَّہُ لِکَاتِبَیْہِ : اکْتُبَا لِعَبْدِی مَا کَانَ یَعْمَلُ فِی صِحَّتِہِ۔
(١٠٩٢٥) حضرت عاصم سے مروی ہے کہ حضرت ابو العالیہ حضرت نضر بن انس کی عیادت کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ فرمایا ہم پچاس سالوں سے حدیث بیان کر رہے ہیں کہ کوئی بندہ مؤمن بیمار نہیں ہوتا مگر جب وہ تندرست ہو کر اٹھتا ہے تو ایسے اٹھتا ہے جیسے وہ پیدائش کے دن تھا اور ہم پچاس سالوں سے روایت بیان کرتے ہیں کوئی بندہ مؤ من بیمار نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ کراما کاتبین سے فرماتا ہے : میرے بندہ کے لیے وہ عمل تحریر کردو جو یہ تندرستی کے وقت کرتا تھا۔