(۱۰۹۳۳) حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُولَ اللہِ أَیُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاَئً ، قَالَ : النَّبِیُّونَ ، ثُمَّ الأَمْثَلُ مِنَ النَّاسِ وَمَا یَزَالُ بِالْعَبْدِ الْبَلاَئُ حَتَّی یَلْقَی اللَّہَ وَمَا عَلَیْہِ مِنْ خَطِیئَۃٍ۔ (ترمذی ۲۳۹۸۔ ابن حبان ۲۹۰۰)
(١٠٩٣٣) حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! لوگوں میں سے سب سے زیادہ تکالیف کس پر آتی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : انبیاء کرام پر، پھر ان لوگوں پر جو ان کے مثل ہیں اور بندہ پر مسلسل مصائب آتے ہں یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔