(۱۰۹۴۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : جَائَ أَبُو مُوسَی إلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ یَعُودُہُ وَکَانَ شَاکِیًا ، فَقَالَ لَہُ : عَلِیٌّ : عَائِدًا جِئْت أَمْ شَامِتًا ؟ فَقَالَ : لاَ بَلْ عَائِدًا ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ أَمَا إذْ جِئْت عَائِدًا فَإِنِّی سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ أَتَی أَخَاہُ الْمُسْلِمَ یَعُودُہُ مَشَی فِی خَرَافَۃِ الْجَنَّۃِ حَتَّی یَجْلِسَ فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْہُ الرَّحْمَۃُ ، وَإِنْ کَانَ غدوۃ صَلَّی عَلَیْہِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ حَتَّی یُمْسِیَ ، وَإِنْ کَانَ مَسَائً صَلَّی عَلَیْہِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ حَتَّی یُصْبِحَ۔
(ابوداؤد ۳۰۹۲۔ ترمذی ۹۶۹)
(١٠٩٤٠) حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ حضرت حسن بن علی کی عیادت کے لیے تشریف لائے، وہ بیماری کی وجہ سے تکلیف محسوس کر رہے تھے۔ حضرت علی نے آپ سے فرمایا : مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے ہیں یا دوسرے کی مصیبت پر خوش ہونے کے لیے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ مزاج پرسی کے لئے، حضرت علی نے ان سے فرمایا اگر آپ مزاج پرسی کے لیئے تشریف لائے ہیں تو میں نے خود رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ فرماتے ہیں جو شخص مسلمان کی عیادت کے لیے آتا ہے وہ جنت کے پھلوں (باغات) میں چلتا ہے یہاں تک کہ بیٹھ جائے، پھر جب بیٹھ جاتا ہے تو اس کو رحمت ڈھانپ لیتی ہے، اگر وہ صبح کے وقت آتا ہے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت فرماتے ہیں اور اگر وہ شام کے وقت آتا ہے تو ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کے لیے دعائے مغفرت فرماتے رہتے ہیں۔