(۱۰۹۴۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُوسَی الْجُہَنِیُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبِی ، أَنَّ أَبَا مُوسَی انْطَلَقَ عَائِدًا لِلْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : أَعَائِدًا جِئْت ، أَوْ زَائِرًا ؟ قَالَ : لاَ بَلْ زَائِرًا ، قَالَ : أَمَا إِنَّہُ لاَ یَمْنَعُنِی ، وَإِنْ کَانَ فِی نَفْسِکَ مَا فِی نَفْسِکَ أَنْ أُخْبِرَک؛ أَنَّ الْعَائِدَ إذَا خَرَجَ مِنْ بَیْتِہِ یَعُودُ مَرِیضًا ، کَانَ یَخُوضُ فِی الرَّحْمَۃِ خَوْضًا ، فَإِذَا انْتَہَی إلَی الْمَرِیضِ فَجَلَسَ غَمَرَتْہُ الرَّحْمَۃُ وَیَرْجِع مِنْ عِنْدِ الْمَرِیضِ ، حِینَ یَرْجِعُ ، یُشَیِّعُہُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ ، یَسْتَغْفِرُونَ لَہُ نَہَارَہ أَجْمَعَ ، وَإِنْ کَانَ لَیْلاً ، کَانَ بِذَلِکَ الْمَنْزِلِ حَتَّی یُصْبِحَ ، وَلَہُ خَرِیفٌ فِی الْجَنَّۃِ۔
(١٠٩٤٤) حضرت سعید بن ابو بردہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری حضرت حسین بن علی کی مزاج پرسی کیلئے تشریف لے گئے۔ حضرت علی نے ارشاد فرمایا کیا آپ زیارت کے لیے تشریف لائے ہیں یا عیادت کے لیے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ زیارت کے لیے تو حضرت علی نے فرمایا کہ آپ کے دل میں جو کچھ بھی ہے بہرحال وہ یعنی دل کا خیال مجھ کو یہ بات بیان کرنے سے نہیں روک سکتا کہ مریض کی مزاج پرسی کرنے والا جب گھر سے مریض کی عیادت کے لیے نکلتا ہے تو اس کو رحمت ڈھانپ لیتی ہے وہ رحمت میں گھس جاتا ہے اور جب وہ مریض کے پاس پہنچ کر بیٹھ جاتا ہے تو پھر رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے اور وہ رحمت میں غرق ہوجاتا ہے اور جب وہ مریض کی عیادت کر کے واپس آتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے لیے تمام دن مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور اگر وہ رات کو عیادت کرتا ہے تب بھی اس کو یہ مقام و مرتبہ حاصل رہتا ہے یہاں تک کہ صبح ہوجائے اور اس کے لیے جنت کے میوے ہیں۔