(۱۰۹۸۲) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ أَبِی مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ، عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ، قَالَ: لَمَّا کَانَتْ لَیْلَۃ مَاتَ فِیہَا حُذَیْفَۃُ دَخَلَ عَلَیْہِ أَبُو مَسْعُودٍ ، فَقَالَ: تَنَحَّ فَقَدْ طَالَ لَیْلک فَأَسْنَدَہُ إلَی صَدْرِہِ فَأَفَاقَ ، فَقَالَ: أَیُّ سَاعَۃٍ ہَذِہِ قَالُوا: السَّحَرُ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ: اللَّہُمَّ إنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ صَبَاحٍ إلَی النَّارِ وَمَسَائٍ بِہَا، ثُمَّ أَضْجَعْنَاہُ فَقَضَی۔
(١٠٩٨٢) حضرت ربعی بن حراش فرماتے ہیں کہ جس رات حضرت حذیفہ کا انتقال ہوا اس رات حضرت ابو مسعود ان کے پاس آئے۔ آپ نے فرمایا ایک طرف ہٹ جاؤ، تحقیق تمہاری رات لمبی ہوگی پھر آپ نے انھیں اپنے سینے کے ساتھ لگایا تو آپ کو کچھ افاقہ ہوا آپ نے فرمایا : یہ کونسا وقت ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا سحری کا، حضرت حذیفہ نے فرمایا : اے اللہ ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ صبح کے وقت یا شام کے وقت آگ پر آؤں، پھر ہم نے آپ کو پہلو پر لٹا دیا اور آپ نے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کردی۔