(۱۱۰۲۱) حَدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَیٍّ ، عَنْ أُبَیٍّ ، قَالَ لَمَّا ثَقُلَ آدَم أَمَرَ بَنِیہِ أَنْ یَجِدُّوا مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّۃِ فَجَاؤوا فَتَلَقَّتْہُمُ الْمَلاَئِکَۃُ فَقَالُوا : ارْجِعُوا فَقَدْ أَمَرَ اللَّہُ بِقَبْضِ أَبِیکُمْ فَرَجَعُوا مَعَہُمْ فَقَبَضُوا رُوحَہُ وَجَاؤُوا مَعَہُمْ بِکَفَنِہِ وَحَنَّطُوہ ، وَقَالُوا لِبَنِیہِ : احْضُرُونَا ، فَاغْسِلُوہُ ، وَکَفِّنُوہُ ، وَحَنِّطُوہُ ، وَصَلُّوْا عَلَیْہِ ، ثم قَالُوا : یَا بَنِی آدَمَ ، ہَذِہِ سُنَّتکم بَیْنَکُمْ۔ (حاکم ۳۳۴)
(١١٠٢١) حضرت ابی سے مروی ہے کہ جب حضرت آدم کا آخری وقت آیا تو آپ نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ ان کے لیے جنت کے پھل لے کر آئیں، پس وہ چلے گئے ، جب وہ فرشتوں سے ملے تو فرشتوں نے کہا، تم واپس لوٹو اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کی روح قبض کرنے کا حکم فرمایا ہے، وہ فرشتے ان کے ساتھ لوٹے اور ان کی روح قبض فرمائی اور وہ اپنے ساتھ کفن اور خوشبو لائے اور ان کے بیٹوں سے کہا، ان کے پاس حاضر ہو جاؤ، ان کو غسل دو ، ان کو کفن دو اور خوشبو لگاؤ اور ان پر نماز پڑھو، پھر فرمایا اے بنی آدم ! یہ تمہارے والد کی سنت ہے۔