(۱۱۱۴۷) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ وَمُحَمَّدُ بْنُ سُوقَۃَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ لَمَّا غَزَا سَلْمَانُ بَلَنْجَرَ ، أَصَابَ فِی قِسْمَتِہِ صُرَّۃٌ مِنْ مِسْکٍ ، فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَوْدَعَہَا امْرَأَتَہُ ، فَلَمَّا مَرِضَ مَرَضَہُ الَّذِی مَاتَ فِیہِ ، قَالَ لاِمْرَأَتِہِ وَہُوَ یَمُوتُ : أَرِینِی الصُّرَّۃَ الَّتِی اسْتَوْدَعْتُکِ ، فَأَتَتْہُ بِہَا ، فَقَالَ : ائْتِنِی بِإِنَائٍ نَظِیفٍ فَجَائَتْ بِہِ ، فَقَالَ : أَدِیفِیہِ ، ثُمَّ انْضَحِی بِہِ حَوْلِی ، فَإِنَّہُ یَحْضُرُنِی خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللہِ ، لاَ یَأْکُلُونَ الطَّعَامَ ، وَیَجِدُونَ الرِّیحَ ، وَقَالَ : اخْرُجِی عَنِّی ، وَتَعَاہَدِینِی ، قَالَتْ : فَخَرَجْتُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَی۔
(١١١٤٧) حضرت امام شعبی سے مروی ہے کہ جب حضرت سلمان لنجر کے غزوہ میں شریک ہوئے تو غنیمت کی تقسیم میں مشک کی تھیلی ملی، جب وہ واپس آئے تو وہ تھیلی اپنی اہیہغ کے پاس امانت رکھوا دی، پھر جب وہ مریض ہوئے، جس مرض میں ان کی وفات ہوئی تو انھوں نے اپنی اہلیہ سے فرمایا : جو تھیلی میں نے آپ کے پاس امانت رکھوائی تھی وہ لا کر مجھے دو ، وہ تھیلی لے کر حاضر ہوگئیں، آپ نے فرمایا اس کو میرے اردگرد چھڑک دو ، کیونکہ میرے اردگرد ایسی مخلوق حاضر ہوتی ہے جو کھاتی (پیتی) نہیں ہے مگر خوشبو (محسوس) کرتے ہیں اور پھر فرمایا اس کو لے جاؤ میرے پاس سے اور مجھ سے عہد کرو، وہ فرماتی ہیں کہ میں نکل گئی پھر جب میں واپس آئی تو آپ کی روح اس دنیا سے کوچ کرچکی تھی۔