(۱۱۱۷۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ ، قَالَ ہَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَبِیلِ اللہِ نَبْتَغِی وَجْہَ اللہِ تَعَالَی ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَی اللہِ فَمِنَّا مَنْ مَضَی لَمْ یَأْکُلْ مِنْ أَجْرِہِ شَیْئًا مِنْہُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ قُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ لَہُ شَیْئًا یُکَفَّنُ فِیہِ إِلاَّ نَمِرَۃً ، فَکُنَّا إذَا وَضَعْنَاہَا عَلَی رَأْسِہِ خَرَجَتْ رِجْلاَہُ ، فَإِذَا وَضَعْنَاہَا عَلَی رِجْلَیْہِ خَرَجَ رَأْسُہُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ضَعُوہَا مِمَّا یَلِی رَأْسَہُ وَاجْعَلُوا عَلَی رِجْلَیْہِ مِنَ الإِذْخِر وَمِنَّا مَنْ أَیْنَعَتْ لَہُ ثَمَرَۃٌ فَہُوَ یَہْدُبُہَا۔
(بخاری ۱۲۷۶۔ ابوداؤد ۲۸۶۸)
(١١١٧٨) حضرت خباب بن الارت فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اللہ کی راہ میں اللہ کی رضا کی خاطر نکلے، ہمارا اجر اللہ کے ذمہ ہے، فرماتے ہیں ہم میں سے بعض تو گذر گئے ان کے اجر میں کوئی کمی نہ کی گئی، ان ہی میں حضرت مصعب بن عمیر بھی ہیں جو غزوہ احد میں شریک ہو کر شھید ہوئے، ہمیں کوئی کپڑا نہ ملا جس میں آپ کو کفن دیتے سوائے ایک کپڑے کے، جب اس کو ہم سر کی طرف کرتے تو پاؤں برہنہ ہوجاتے اور پاؤں کی طرف کرتے تو سر برہنہ ہوجاتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کو سر کی جانب رکھ دو اور پاؤں پر ازخر کے پتے رکھ دو ۔ اور فرماتے ہیں کہ ہم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن کے پھل لگنے والے ہیں اور وہ ان کو توڑتے ہیں۔