(۱۱۲۱۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَمُّ عَبْدِ الْحُمَیْدِ ابْنَۃَ سِیرِینَ ہَلْ رَأَیْت حَفْصَۃَ إذَا غُسَّلَتْ کَیْفَ تُصْنَعُ بِخِمَارِ الْمَرْأَۃِ قَالَتْ نَعَمْ کَانَتْ تُخَمَّرُہَا کَمَا تُخَمَّرُ الْحَیَّۃُ ، ثُمَّ تُفْضَلُ مِنَ الْخِمَارِ قدْرٰ ذِرَاعٍ فَتَفْرِشُہُ فِی مُؤَخِّرِہَا ، ثُمَّ تَعْطِفُ تِلْکَ الْفَضْلَۃَ فَتُغَطِّی بِہَا وَجْہَہَا۔
(١١٢١٩) حضرت ہشام سے مروی ہے کہ حضرت ام حمید نے بنت سیرین سے دریافت فرمایا : جب حضرت حفصہ کو غسل دیا گیا آپ نے دیکھا تھا کہ ان کو اوڑھنی کس طرح اوڑھائی گئی تھی ؟ آپ نے فرمایا ہاں، ان کو اوڑھنی اس طرح اوڑھائی گئی تھی جس طرح زندہ کو اوڑھائی جاتی ہے، پھر ایک ذراع کی بقدر بچی ہوئی او ڑھنی کو پچھلی جانب بچھا دیا، پھر اس بچے ہوئے حصہ کو پھیرا اور اس سے ان کے چہرہ کو ڈھانپ دیا۔