(۱۱۳۲۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُثْمَانَ بْنُ حَکِیمٍ ، عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ عَمِّہِ یَزِیدَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَکَانَ أَکْبَرَ مِنْ زَیْدٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا وَرَدْنَا الْبَقِیعَ إذَا ہُوَ بِقَبْرٍ جَدِیدٍ ، فَسَأَلَ عَنْہُ فَقَالُوا : فُلاَنَۃُ فَعَرَفَہَا ، قَالَ : فَقَالَ : أَفَلاَ آذَنْتُمُونِی بِہَا ؟ قَالُوا : کُنْت قَائِلاً فَکَرِہْنَا أَنْ نُؤْذِنَک ، فَقَالَ : لاَ تَفْعَلُوا ، لاَ أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ مِنْکُمْ مَیِّتٌ بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ إِلاَّ آذَنْتُمُونِی بِہِ فَإِنَّ صَلاَتِی عَلَیْہِ لَہُ رَحْمَۃٌ۔
(بخاری ۴۲۔ احمد ۴/۳۸۸)
(١١٣٢٩) حضرت خارجہ بن زید انپے چچا حضرت یزید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں وہ حضرت زید سے بڑے تھے، فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے، جب ہم جنت البقیع میں آئے تو وہاں پر ایک نئی قبر تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا : لوگوں نے عرض کیا فلاں عورت کی قبر ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا : تم نے مجھے اس کی اطلاع کیوں نہ دی ؟ لوگوں نے عرض کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود فرمایا تھا اس لیے ہم نے آپ کو اطلاع دینا ناپسند سمجھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوجائے تو تم ہرگز اس کا اعلان مت کرو مگر مجھے اس کے بارے میں اطلاع دیدو۔ بیشک میرا اس پر نماز پڑھنا اس کے لیے رحمت کا باعث ہے۔