(۱۱۳۳۲) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ عَمْرُو بْنُ مَیْمُونٍ صِدِّیقًا لِلرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ ، فَلَمَّا ثَقُلَ ، قَالَ عَمْرٌو لأُمِّ وَلَدِ الرَّبِیعِ بْنِ خُثَیْمٍ أَعْلِمِینِی إذَا مَاتَ ، فَقَالَتْ : إِنَّہُ قَالَ : إذَا أَنَا مِتُّ فَلاَ تُشْعِرِی بِی أَحَدًا ، وَسُلُّونِی إلَی رَبِّی سَلاً ، قَالَ فَبَاتَ عَمْرٌو عَلَی دَکَاکِینِ بَنِی ثَوْرٍ حَتَّی أَصْبَحَ فَشَہِدَہُ۔
(١١٣٣٢) حضرت ابو حیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون حضرت ربیع بن خیثم کے دوست تھے، جب حضرت ربیع بن خیثم پر زندگی دشوار ہوگئی تو حضرت عمرو بن میمون نے ان کے ام ولد سے کہا جب وہ فوت ہوجائیں تو مجھے اطلاع دینا۔ انھوں نے عرض کیا کہ حضرت ربیع نے کہا ہے کہ جب میں مر جاؤں تو میرے بارے میں کسی کو خبر مت دینا اور مجھے خفیہ طور پر دفن کردینا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن میمون نے بنی ثور کے چبوترے پر رات گذاری یہاں تک کہ صبح ہوگی پھر وہ اس کے پاس حاضر ہوئے۔