(۱۱۳۳۵) حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ یَحْیَی الْحِمْیَرِیُّ ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعُودُ فُقَرَائَ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ وَیَشْہَدُ جَنَائِزَہُمْ إذَا مَاتُوا ، قَالَ : فَتُوُفِّـیَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ أَہْلِ الْعَوَالِی ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا حَضَرَتْ فَآذِنُونِی بِہَا ، قَالَ فَأَتَوْہُ لِیُؤْذِنُوہُ فَوَجَدُوہُ نَائِمًا وَقَدْ ذَہَبَ مِنَ اللَّیْلِ فَکَرِہُوا أَنْ یُوقِظُوہُ وَتَخَوَّفُوا عَلَیْہِ ظُلْمَۃَ اللَّیْلِ وَہَوَامَّ الأَرْضِ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْہَا فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ أَتَیْنَاک لِنُؤْذِنَک بِہَا فَوَجَدْنَاک نَائِمًا فَکَرِہْنَا أَنْ نُوقِظَک وَتَخَوَّفْنَا عَلَیْک ظُلْمَۃَ اللَّیْلِ وَہَوَامَّ الأَرْضِ ، قَالَ : فَدَفَنَّاہَا ، قَالَ : فَمَشَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی قَبْرِہَا فَصَلَّی عَلَیْہَا وَکَبَّرَ أَرْبَعًا۔ (حاکم ۴۶۶)
(١١٣٣٥) حضرت ابوامامہ بن سھل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اھل مدینہ کے فقراء کی عیادت فرماتے اور ان کے جنازے میں شرکت فرماتے، اھل عوالی میں سے ایک عورت مرگئی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اس کے پاس موت آجائے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب لوگ اطلاع دینے کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ کو آرام کرتا ہوا پایا اور اس وقت رات کا کچھ حصہ گذر چکا تھا۔ انھوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نیند سے جگایا جائے، انھوں نے خوف محسوس کیا رات کی تاریکی اور زمین کے کیڑے پتنگوں کی وجہ سے۔ جب صبح ہوئی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کے بارے میں دریافت فرمایا : لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم اطلاع دینے کے لیے حاضر ہوئے تھے لیکن ہم نے آپ کو نیند میں پایا تو جگانا مناسب نہ سمجھا اور رات کی تاریکی اور زمین کے شیر نے ہمیں خوف زدہ کردیا۔ اس لیے ہم نے اس کو دفن کردیا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (یہ سن کر) ہمارے ساتھ چلے اور اس خاتون کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز پڑھی اور چار تکبیریں پڑھیں۔