(۱۱۴۱۲) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ جُبَارِ الطَّائِیِّ ، قَالَ : شَہِدْت جِنَازَۃَ أُمِّ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَیْرِ وَفِیہَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَی أَتَانٍ لَہُ قمراء یقاد وَعَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ ، وَابْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : فَسَمِعُوا أَصْوَاتَ صَوَائِحَ ، قَالَ : قُلْتُ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ یُصْنَعُ ہَذَا وَأَنْتَ ہَاہُنَا ؟ قَالَ : دَعْنَا مِنْک یَا جُبَارِ ، فَإِنَّ اللَّہَ أَضْحَکَ وَأَبْکَی۔
(١١٤١٢) حضرت جبار الطائی فرماتے ہیں کہ میں حضرت ام مصعب بن زبیر کے جنازہ میں حاضر ہوا وہاں حضرت ابن عباس بھی سفید گدھی پر سوار موجود تھے جس کو لگام پکڑ کر چلا جا رہا تھا۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن عباس بھی موجود تھے تو انھوں نے چلانے اور چیخنے کی آواز سنی تو میں نے ابن عباس سے عرض کیا یہاں پر یہ ہو رہا ہے اور آپ پھر بھی یہاں موجود ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اے جبارھم سے خود کو دور رکھو (ہم اس کے مکلف نہیں) بیشک اللہ تعالیٰ ہی ہنساتا ہے اور اللہ ہی رلاتا ہے۔