(۱۱۶۳۸) حدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِیبٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، قَالَ : کُنْتُ فِی جِنَازَۃٍ فَلَمْ أَجْلِسْ حَتَّی وُضِعَتْ إلی الأَرْضِ ، ثُمَّ أَتَیْتُ نَافِعَ بْنَ جُبَیْرٍ فَجَلَسْت إلَیْہِ ، فَقَالَ : مَا لِی لَمْ أَرَک جَلَسْت حَتَّی وُضِعَتِ الْجِنَازَۃُ فَقُلْت ذَاکَ لِحَدِیثٍ بَلَغَنِی عَنْ أَبِی سَعِیدٍ ، فَقَالَ نَافِعٌ : حَدَّثَنِی مَسْعُودُ بْنُ الْحَکَمِ ، أَنَّ عَلِیًّا حَدَّثَہُ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَامَ ، ثُمَّ قَعَدَ۔ (مسلم ۸۳۔ ابوداؤد ۳۱۶۷)
(١١٦٣٨) حضرت واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ فرماتے ہیں کہ میں ایک جنازے میں تھا، جب تک جنازہ نہ رکھ دیا گیا میں نہیں بیٹھا، پھر میں حضرت نافع بن جبیر کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا، انھوں نے مجھ سے پوچھا کیا بات ہے کہ جب تک جنازہ نہیں رکھا گیا آپ بیٹھے نہیں ؟ میں نے کہا اس لیے کہ مجھے حدیث پہنچی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے رہے (پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا) پھر بیٹھے۔