(۱۱۶۵۸) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: أَمِیرَانِ وَلَیْسَا بِآمِرَیْنِ : الْمَرْأَۃُ تَکُونُ مَعَ الرُّفْقَۃِ فَتَحُجُّ ، أَوْ تَعْتَمِرُ فَیُصِیبُہَا أَذًی مِنَ الْحَیْضِ ؟ قَالَ : لاَ تَنْفِرُوا حَتَّی تَطْہُرَ وَتَأْذَنَ لَہُمْ وَالرَّجُلُ یَخْرُجُ مَعَ الْجِنَازَۃِ لاَ یَرْجِعُ حَتَّی یُؤْذَنَ لَہُ ، أَوْ یَدْفِنُوہَا ، أَوْ یُوَارُوہَا۔
(١١٦٥٨) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں دو امیر ایسے ہیں جو حقیقت میں امیر نہیں ایک وہ عورت جو کسی جماعت کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے جائے اور وہ حائضہ ہوجائے اب وہ جماعت اس وقت کوچ نہیں کرسکتی جب تک وہ پاک نہ ہوجائے یا ناپاکی کی حالت میں انھیں چلے جانے کی اجازت نہ دے دے۔ اور دوسرا وہ آدمی جو کسی جنازے کے ساتھ چلا جائے اب وہ اس وقت تک واپس نہیں جاسکتا جب تک کہ اس کو اجازت نہ مل جائے یا جب تک میت کو دفن نہ کردیا جائے۔