(۱۱۷۳۶) حدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْوَلِیدَ بْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ صَلَّی عَلَی جِنَازَۃٍ فَلَہُ قِیرَاطٌ، فَإِنْ شَہِدَ دَفْنَہَا کَانَ لَہُ قِیرَاطَانِ الْقِیرَاطُ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : انْظُرْ مَا تَقُولُ ، قَالَ : فَبَعَثُوا إلَی عَائِشَۃَ ، فَقَالَتْ صَدَقَ۔ (احمد ۳)
(١١٧٣٦) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس نے نماز جنازہ ادا کی اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے اور جو دفنانے تک حاضر رہا اس کے لیے دو قیراط اجر ہے اور قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے آپ سے فرمایا غور کرو آپ کیا کہہ رہے ہو ؟ پھر حضرت عائشہ کے پاس تصدیق کے لے ن بھیجا تو حضرت عائشہ نے اس کی تصدیق فرمائی۔