(۱۱۷۴۴) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ أَبِی بَکَّارٍ ، قَالَ : صَلَّیْت مَعَ أَبِی الْمَلِیحِ عَلَی جِنَازَۃٍ ، فَقَالَ : سَوُّوا صُفُوفَکُمْ وَلْتَحْسُنْ شَفَاعَتُکُمْ وَلَوْ خُیِّرْت رَجُلاً لاَخْتَرْتُہُ ، حدَّثَنَی عَبْدُ اللہِ بْنُ بن السلیل ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَیْمُونَۃ ، وَکان أَخاہَا مِن الرّضَاعَۃ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ یُصَلِّی عَلَیْہِ أُمَّۃٌ إِلاَّ شُفِّعُوا فِیہِ۔
قَالَ أَبُو الْمَلِیحِ : وَالأُمَّۃُ مَا بَیْنَ الأَرْبَعِینَ إلَی الْمِئَۃِ۔
(١١٧٤٤) حضرت ابی بکار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ملیح کے ساتھ نماز جنازہ ادا کی، آپ نے فرمایا صفیں درست کرلو اور اس کے لیے تم خوب اچھے طریقے سے شفاعت (دعائے مغفرت) کرو۔ اگر مجھے کسی شخص کا اختیار دیا جاتا تو میں اس کو اختیار کرتا۔ مجھ سے حضرت عبداللہ بن السلیل نے بیان کیا کہ حضرت میمونہ سے مروی ہے جو ان کے رضاعی بھائی تھے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں ہے کوئی مسلمان جس کی نماز جنازہ ایک جماعت ادا کرے مگر اس کی شفاعت کردی جاتی ہے۔ حضرت ابو الملیح فرماتے ہیں جماعت سے مراد چالیس سے سو تک لوگ ہیں۔