(۱۱۸۲۸) حدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ ، أَنَّ عَلِیًّا کَبَّرَ عَلَی یَزِیدَ أَرْبَعًا ، قَالَ : اللَّہُمَّ عَبْدُک وَابْنُ عَبْدِکَ نَزَلَ بِکَ الْیَوْمَ ، وَأَنْتَ خَیْرُ مَنْزُولٍ بِہِ ، اللَّہُمَّ وَسِّعْ لَہُ مُدْخَلَہُ ، وَاغْفِرْ لَہُ ذَنْبَہُ ، فَإِنَّا لاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَیْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ۔
(١١٨٢٨) حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے حضرت یزید کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں پڑھیں پھر یہ دعا پڑھی : اللَّہُمَّ عَبْدُک وَابْنُ عَبْدِکَ نَزَلَ بِکَ الْیَوْمَ ، وَأَنْتَ خَیْرُ مَنْزُولٍ بِہِ ، اللَّہُمَّ وَسِّعْ لَہُ مُدْخَلَہُ ، وَاغْفِرْ لَہُ ذَنْبَہُ ، فَإِنَّا لاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَیْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ ۔ ” اے اللہ ! تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا آج تیرے پاس آیا ہے، تو اس کا بہترین ٹھکانا ہے، اے اللہ اس کی قبر کو کشادہ فرما اور اس کے گناہوں کو معاف فرما، ہم تو صرف خیر کو جانتے ہیں اور تو اسے زیادہ جاننے والا ہے۔ “