(۱۱۸۳۱) حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ صَلَّیْت مَعَ عَلِیٍّ عَلَی یَزِیدَ بْنَ الْمُکَفَّفِ فَکَبَّرَ عَلَیْہِ أَرْبَعًا ، ثُمَّ مَشَی حَتَّی أَتَاہُ ، فَقَالَ : اللَّہُمَّ عَبْدُک ، وَابْنُ عَبْدِکَ نَزَلَ بِکَ الْیَوْمَ فَاغْفِرْ لَہُ ذَنْبَہُ ، وَوَسِّعْ عَلَیْہِ مُدْخَلَہُ فَإِنَّا لاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَیْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ۔
(١١٨٣١) حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کے ساتھ حضرت یزید بن المکفف کی نماز جنازہ پڑھی، آپ نے اس پر چار تکبیریں پڑھیں، پھر آپ جنازے کے ساتھ چل کر جب قبر کے پاس آئے تو یوں دعا مانگی : اللَّہُمَّ عَبْدُک ، وَابْنُ عَبْدِکَ نَزَلَ بِکَ الْیَوْمَ فَاغْفِرْ لَہُ ذَنْبَہُ ، وَوَسِّعْ عَلَیْہِ مُدْخَلَہُ فَإِنَّا لاَ نَعْلَمُ إِلاَّ خَیْرًا وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ ۔ ” اے اللہ ! تیرا بندہ اور تیرے بندے کا بیٹا آج تیرے پاس آیا ہے، تو اس کے گناہوں کو معاف فرما اور اس کی قبر کو کشادہ فرما۔ ہم تو صرف خیر کو جانتے ہیں اور تو اسے زیادہ جاننے والا ہے۔ “