(۱۱۸۸۷) حدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِی حَمَادَۃُ ، عَنْ أُنَیْسَۃَ بِنْتِ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَتْ : مَاتَ ابْنٌ لِزَیْدٍ یُقَالُ لَہُ سُوَیْد ، فَاشْتَرَی غُلاَمٌ لَہُ ، أَوْ جَارِیَۃٌ جِصًّا وَآجُرًّا ، فَقَالَ لَہُ زَیْدٌ : مَا تُرِیدُ إلَی ہَذَا ، قَالَ : أَرَدْت أَنْ أَبْنِیَ قَبْرَہُ وَأُجَصِّصَہُ ، قَالَ : حَقِرْت ونَقِرْت لاَ تُقَرِّبْہُ شَیْئًا مَسَّتْہُ النَّارُ۔
(١١٨٨٧) حضرت انیسہ بنت زید بن ارقم فرماتی ہیں کہ حضرت زید کے بیٹے حضرت سوید کا انتقال ہوا تو ان کے لیے ایک غلام یا باندی نے چونا اور اینٹیں (پکی) خریدیں۔ حضرت زید نے فرمایا ان چیزوں سے کیا کرنے کا ارادہ ہے ؟ انھوں نے کہا قبر پر عمارت بنانے اور اس کو پکی کرنے کا ارادہ ہے، آپ نے فرمایا تیرا ستیاناس ہو، ہر وہ چیز جس کو آگ نے چھوا ہے اس کو اس میت کے قریب مت لاؤ۔