(۱۱۸۹۹) حدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی یَحْیَی ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنْتُ أَتْبَعُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ فِی الْجَنَائِزِ ، فَکَانَ یَتقَصَّی الْقُبُورَ ، قَالَ : لأَنْ یَجْلِسَ أَحَدُکُمْ عَلَی جَمْرَۃٍ فَتُحْرِقَ ثِیَابَہُ ، ثُمَّ قَمِیصَہُ ، ثُمَّ إزَارَہُ حَتَّی تَخْلُصَ إلَی جِلْدِہِ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ یَجْلِسَ عَلَی قَبْرٍ۔ (مسلم ۹۶۔ ابوداؤد ۳۲۲۰)
(٩٩ ١١٨) حضرت محمد بن ابی یحییٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوہریرہ کے پیچھے ایک جنازے کے ساتھ جا رہا تھا، آپ قبروں سے دور تھے، (تاکہ کسی قبر پر پاؤں وغیرہ نہ آجائے) اور فرمایا : تم میں سے کوئی شخص آگ کے انگارے پر بیٹھے جس سے اس کے کپڑے، قمیص پھر شلوار جل جائے یہاں تک کہ آگ بدن تک پہنچ جائے یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ کوئی شخص قبر پر بیٹھے۔