(۱۱۹۱۶) حدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ شُفَیٍّ ، قَالَ : خَرَجْنَا غُزَاۃً فِی زَمَانِ مُعَاوِیَۃَ إلَی ہَذَا الدَّرْبِ وَعَلَیْنَا فَضَالَۃُ بْنُ عُبَیْدٍ ، قَالَ فَتُوُفِّیَ ابْنُ عَمٍّ لِی یُقَالُ لَہُ نَافِعٌ فَقَامَ مَعَنَا فَضَالَۃُ عَلَی حُفْرَتِہِ ، فَلَمَّا دَفَنَّاہُ ، قَالَ : خَفِّفُوا عَنْ حُفْرَتِہِ فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَأْمُرُ بِتَسْوِیَۃِ الْقُبُورِ۔
(احمد ۶/۱۸۔ بیہقی ۴۱۱)
(١١٩١٦) حضرت ثمامہ بن شفی فرماتے ہیں کہ ہم حضرت معاویہ کے دور میں غزوہ (جنگ) کے لیے اس شہر سے نکلے، ہمارے ساتھ حضرت فضالہ بن عبید بھی تھے، آپ کے چچا کے لڑکے حضرت نافع انتقال کر گئے، حضرت فضالہ ہمارے ساتھ آپ کی قبر پر کھڑے ہوئے، جب ہم نے اس کو دفن کردیا، تو آپ نے فرمایا اس کی قبر ہلکی اور برابر کرو، بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبروں کو برابر کرنے کا حکم دیا ہے۔