(۱۱۹۳۳) حدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ ، قَالَ تُوُفِّیَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ بِالْحُبْشِیِّ ، قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ الْحُبْشِیُّ اثْنَیْ عَشَرَ مِیلاً مِنْ مَکَّۃَ فَدُفِنَ بِمَکَّۃَ ، فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَۃُ أَتَتْ قَبْرَہُ ، فَقَالَتْ :
وَکُنَّا کَنَدْمَانَیْ جَذِیمَۃَ حِقْبَۃً مِنَ الدَّہْرِ حَتَّی قِیلَ لَنْ یَتَصَدَّعَا
فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا کَأَنِّی وَمَالِکًا لِطُولِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَیْلَۃً مَعًا
ثُمَّ قَالَتْ : أَمَّا وَاللَّہِ لَوْ حَضَرْتُک لَدَفَنْتُک حَیْثُ مِتَّ وَلَوْ شَہِدْتُک مَا زُرْتُک۔
(١١٩٣٣) حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر کا حبشی مقام پر انتقال ہوا، حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ جبشی مکہ سے بارہ میل کے فاصلہ پر ایک مقام ہے۔ ان کو مکہ میں دفن کیا گیا جب حضرت عائشہ آئیں تو ان کی قبر پر تشریف لائیں اور یہ اشعار پڑھے۔ ہم لمبے زمانے سے مضبوط جدا نہ ہونے والے ساتھی تھے یہاں تک کہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہم کبھی جدا ہوں گے ہی نہیں۔ لیکن جب جدا ہوئے تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے میں نے اور مالک نے اس لمبے اجتماع کے باوجود بھی ایک رات بھی اکٹھے نہ گزاری ہو۔
پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر میں اس وقت حاضر ہوتی تو جہاں انتقال ہوا تھا وہیں دفن کرواتی اور اگر میں اس کے جنازے میں حاضر ہوتی تو اس کی قبر کی زیارت نہ کرتی۔