(۱۱۹۳۵) حدَّثَنَا عَبِیدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَبِی فَرْوَۃَ الْہَمْدَانِیِّ ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ سُبَیْعٍ ، عَنِ ابن بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : جَالَسْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْمَجْلِسِ فَرَأَیْتُہُ حَزِینًا ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : مَا لَکَ یَا رَسُولَ اللہِ کَأَنَّک حَزِینٌ ؟ قَالَ : ذَکَرْتُ أُمِّی ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کُنْت نَہَیْتُکُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِیِّ أَنْ تَأْکُلُوہَا إِلاَّ ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ فَکُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا مَا بَدَا لَکُمْ ، وَنَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُورِ فَمَنْ أَرَاْدَ أَنْ یَزُورَ قَبْرَ أُمِّہِ فَلْیَزُرْہُ ، وَکُنْت نَہَیْتُکُمْ عَنِ الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِیرِ ، فَاجْتَنِبُوا کُلَّ مُسْکِرٍ ، وَانْبِذُوا فِیمَا بَدَا لَکُمْ۔
(١١٩٣٥) حضرت ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک بار مجلس میں تشریف فرما تھے اور انتہائی غم گین تھے، لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا وجہ ہے آپ غم گین دکھائی دے رہے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں میں اپنی والدہ کو یاد کررہا تھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، پس (اب) تم خود کھاؤ اور دوسروں کو کھلاؤ اور جتنا چاہو ذخیرہ کرو، اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا، پس جو اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کرنا چاہتا ہے وہ زیارت کرے، اور میں نے تمہیں کدو کے برتن سے، سبز رنگ کے برتن سے، سبز رنگ کے روغن سے رنگے ہوئے برتن سے اور پیالہ نما گڑھا کی ہوئی لکڑی جس میں کھجور کی شراب بنائی جاتی ہے اس برتن سے منع کیا تھا، پس تم ہر نشہ والی چیز سے اجتناب کرو اور باقی جتنی چاہو پیؤ، (جس میں نشہ نہ ہو) ۔