(۱۱۹۳۷) حدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ ذَکَرَتْ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَنِیسَۃً رَأَتْہَا فِی أَرْضِ الْحَبَشَۃِ یُقَالُ لَہَا مَارِیَۃَ ، فَذَکَرَتْ لَہُ مَا رَأَتْ فِیہَا مِنَ الصُّوَرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أُولَئِکَ قَوْمٌ إذَا مَاتَ فِیہِمَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ، أَوِ الرَّجُلُ الصَّالِحُ ، بَنَوْا عَلَی قَبْرِہِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِیہِ تِلْکَ الصُّوَرَ، فَأُولَئِکَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ (بخاری ۴۳۴۔ مسلم ۳۷۵)
(١١٩٣٧) حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس کنیسہ کا ذکر فرمایا جو انھوں نے حبشہ میں دیکھا تھا جس کا نام ماریہ تھا، اور ان تصویروں کا بھی ذکر فرمایا جو اس میں دیکھی تھیں، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ ایسی قوم ہیں جب ان میں کوئی شخص انتقال کرتا ہے تو یہ اس کی قبر پر مسجد (سجدہ گاہ) بنا لیتے ہیں اور اس میں اس کی تصویریں لگا دیتے ہیں یہی لوگ اللہ کے نزدیک مخلوق میں سب سے بدتر ہیں۔