(۱۱۹۷۱) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ نَصْرَانِیٌّ فَوَکَّلَہُ ابْنُہُ إلی أَہْلِ دِینِہِ ، فَذُکِرَ ذَلِکَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : مَا کَانَ عَلَیْہِ لَوْ مَشَی مَعَہُ وَأَجَنَّہ وَاسْتَغْفَرَ لَہُ مَا کَانَ حَیًّا ، ثُمَّ تَلاَ : {وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ إبْرَاہِیمَ لأَبِیہِ} الآیَۃَ۔
(١١٩٧١) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک نصرانی شخص کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے نے اس کو ان کے مذہب والوں کے سپرد کردیا، حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس جب اس کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا : کوئی حرج نہ تھا اگر یہ اس کے ساتھ جاتا اور اس کو دفناتا اور اپنی زندگی میں اس کے لیے دعائے مغفرت کرتا، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : { وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ إبْرَاہِیمَ لأَبِیہِ }۔