(۱۱۹۸۰) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ اذْہَبْ إلَی عَائِشَۃَ فَسَلِّمْ وَقُلْ یَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ یُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَیْہِ فَأَتَاہَا عَبْدُ اللہِ فَوَجَدَہَا قَاعِدَۃً تَبْکِی فَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : یَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ یُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَیْہِ ، فَقَالَتْ قَدْ کُنْت وَاللَّہِ أُرِیدُہُ لِنَفْسِی ، وَلاَوثِرَنَّہُ الْیَوْمَ عَلَی نَفْسِی۔
(١١٩٨٠) حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت عبداللہ بن عمر سے فرمایا : امی عائشہ کے پاس جاؤ ان کو میرا سلام دو اور عرض کرو عمر اس بات کی اجازت چاہتا ہے کہ اس کو اس کے ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جائے، حضرت عبداللہ جب ان کے پاس آئے ان کو بیٹھ کر روتے ہوئے پایا، آپ نے ان پر سلام عرض کیا اور فرمایا حضرت عمر اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ! وہ جگہ میں نے اپنے لیے رکھی تھی لیکن میں آج حضرت عمر کو اپنے نفس پر ترجیح دیتی ہوں۔