(۱۱۹۹۵) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ ، عَنْ سَہْلٍ السَّرَّاجِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِیرِینَ سُئِلَ عَنْ قَوْمٍ أَقْبَلُوا بِسَبْیٍ فَکَانُوا إِذَا أَمَرُوہُمْ أَنْ یُصَلُّوا صَلُّوا ، وَإِذَا لَمْ یَأْمُرُوہُمْ لَمْ یُصَلُّوا فَمَاتَ رَجُلٌ مِنْہُمْ ، فَقَالَ : تَبَیَّنَ لَکُمْ أَنَّہُ مِنْ أَصْحَابِ الْجَحِیمِ فَقَالُوا : لاَ مَا تَبَیَّنَ لَنَا ، قَالَ : اغْسِلُوہُ وَکَفِّنُوہُ وَحَنِّطُوہُ وَصَلُّوا عَلَیْہِ۔
(١١٩٩٥) حضرت سھل بن سراج فرماتے ہیں کہ محمد بن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کچھ لوگ تیری بنا کر لائے گئے۔ ان کی حالت پر کہی کہ اگر انھیں نماز کا کہا جاتا تو نماز پڑھتے، اگر نہ کہا جاتا تو نہ پڑھتے۔ ان میں سے ایک شخص کا انتقال ہوگیا ہے، لیکن اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی ؟ فرمایا کیا تم پر ظاہر ہوگیا ہے کہ یہ جہنمی ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا نہیں تو فرمایا اس کو غسل دو ، کفن پہناؤ، خوشبو لگاؤ اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو۔