hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 12007

.

ابن أبي شيبة

12007
Ibn Abi Shaybah
(۱۲۰۰۸) حدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ ، عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَجُلاً کَانَ یَأْتِی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہُ ابْنٌ لَہُ ، فَقَالَ لَہُ : رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَتُحِبُّہُ ؟ قَالَ : أَحَبَّک اللَّہُ کَمَا أحِبُّہُ ، قَالَ فَفَقَدَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ ابْنُک ، فَقَالَ : أَشَعَرْتَ أَنَّہُ تُوُفِّیَ ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمَا یَسُرُّک ، أَنَّہُ لاَ تَأْتِی بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ تَسْتَفْتِحُہُ إِلاَّ جَائَ یَسْعَی حَتَّی یََفْتحَہُ لَکَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ أَلَہُ خَاصَّۃً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّۃً ؟ قَالَ : لَکُمْ عَامَّۃً۔ (نسائی ۱۹۹۷۔ احمد ۳/۴۳۶)
(١٢٠٠٨) حضرت معاویہ بن قرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضور اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے ساتھ اس کا چھوٹا بیٹا بھی تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا کیا تو اس سے محبت کرتا ہے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت کرے جس طرح تو اس سے محبت کرتا ہے، پھر (کچھ عرصہ بعد) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بچے کو گم پایا تو فرمایا : تیرے بیٹے کو کیا ہوا ؟ پھر فرمایا : کیا تو نے اس کی وفات کا اعلان کروایا تھا ؟ پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ تو جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر آئے اس کو کھلوانے کیلئے، مگر تیرا بیٹا دوڑتا ہوا آئے اور تیرے لیے جنت کا دروازہ کھلوا دے ؟ اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ صرف میرے لیے خاص ہے یا لوگوں کیلئے عام ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم سب کے لیے ہے۔