(۱۲۰۳۹) حدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إسْمَاعِیلَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ جَالِسًا فَمُرَّ عَلَیْہِ جِنَازَۃٌ فَقَامَ النَّاسُ حِینَ طَلَعَتِ الْجِنَازَۃُ ، فَقَالَ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ إنَّمَا مُرَّ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَۃِ یَہُودِیٍّ وَکَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی طَرِیقِہَا جَالِسًا فَکَرِہَ أَنْ یَعْلُوَ رَأْسَہُ جِنَازَۃُ یَہُودِیّۃ فَقَامَ۔ (نسائی ۲۰۵۴۔ احمد ۱/۲۰۱)
(١٢٠٣٩) حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس سے جنازہ گزرا، جب جنازہ ان کے پاس سے گزرا تو لوگ کھڑے ہوگئے، حضرت حسن بن علی نے ارشاد فرمایا ایک دفعہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے راستہ میں تشریف فرما تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ یہودی کا جنازہ آپ کے سر سے بلند ہو چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوگئے۔