(۱۲۰۵۴) حدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِیمٍ ، أَخْبَرَنَا خَارِجَۃُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنْ عَمِّہِ یَزِیدَ بْنِ ثَابِتٍ وَکَانَ أَکْبَرَ مِنْ زَیْدٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا وَرَدْنَا الْبَقِیعَ إذَا ہُوَ بِقَبْرٍ جَدِیدٍ فَسَأَلَ عَنْہُ فَقَالُوا : ہَذِہِ فُلاَنَۃٌ فَعَرَفَہَا ، فَأَتَی الْقَبْرَ وَصَفَفْنَا خَلْفَہُ ، فَکَبَّرَ عَلَیْہَا أَرْبَعًا۔
(١٢٠٥٤) حضرت خارجہ بن زید اپنے چچا حضرت یزید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک بار نکلے جب ہم جنت البقیع میں آئے تو وہاں ایک نئی قبر تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا فلاں خاتون کی قبر ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پہچانا اور اس کی قبر کے پاس آئے ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنائیں اور آپ نے اس پر چار تکبیریں پڑھیں، (نماز جنازہ ادا فرمائی) ۔