(۱۲۰۵۷) حدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، أَنَّ أُمَّ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ مَاتَتْ وَہُوَ غَائِبٌ ، فَلَمَّا قَدِمَ أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ إنِّی أُحِبُّ أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی أُمِّ سَعْدٍ فَأَتَی النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْرَہَا فَصَلَّی عَلَیْہَا۔ (ترمذی ۱۰۳۸۔ بیہقی ۴۸)
(١٢٠٥٧) حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ حضرت ام سعد بن عبادہ کا انتقال ہوا تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود نہ تھے، جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو وہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں چاہتا ہوں کہ آپ ام سعد کی نماز جنازہ ادا فرمائیں، چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی قبر پر تشریف لائے اور نماز جنازہ ادا فرمائی۔