(۱۲۰۶۹) حدَّثَنَا دَاوُد بْنُ عَبْدِ اللہِ ، حدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْمُہَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ حَدِیثٍ ، فَقَالَ : مَا ہَذَا الْقَبْرُ ؟ فَقَالُوا : قَبْرُ فُلاَنَۃٍ ، قَالَ : فَہَلاَّ آذَنْتُمُونِی ، فَصَفَّ عَلَیْہِ فَصَلَّی ۔(ابن ماجہ ۱۵۲۹۔ احمد ۳/۴۴۴)
(١٢٠٦٩) حضرت عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک نئی قبر کے پاس سے گزرے تو فرمایا یہ کس کی قبر ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا فلاں خاتون کی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے کیوں اطلاع نہ دی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی قبر پر صفیں بنائی اور نماز ادا کی۔