حدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَقِیُّ بْنُ مَخْلَدٍ ، حدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
(۱۲۱۰۰) حدَّثَنَا سَلاَّمٌ أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی ، قَالَ : کَانَ عَلِیٌّ إذَا انْتَہَی إلَیْہِ نَعْیُ الرَّجُلِ ، قَالَ : إنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إلَیْہِ رَاجِعُونَ ، اللَّہُمَّ ارْفَعْ دَرَجَتَہُ فِی الْمُہْتَدِینَ ، وَاخْلُفْہُ فِی عَقِبِہِ فِی الْغَابِرِینَ ، وَنَحْتَسِبُہُ عِنْدَکَ رَبَّ الْعَالَمِینَ ، لاَ تُضِلَّنَا بَعْدَہُ ، وَلاَ تَحْرِمْنَا أَجْرَہُ۔
(١٢٠١٠٠) حضرت عبداللہ بن عبد الرحمن بن ابزیٰ فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کسی کی موت کی خبر سنتے تو فرماتے : انا للہ وانا الیہ راجعون، اے اللہ ! اس کے درجات کو جنت میں بلند فرما، اور باقی ماندہ لوگوں میں دشوار گزار رستہ میں اس کا قائم مقام بنا، اور اے رب العالمین ! ہم اس کے لیے ثواب کی امید رکھتے ہیں، ہمیں اس کے بعد راہ سے نہ ہٹانا (گمراہ نہ کرنا) اور اس کے اجر وثواب سے ہمیں محروم نہ فرمانا۔