(۱۲۱۲۳) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حدَّثَنَا مِسْعر ، قَالَ : حَدَّثَنِی إبْرَاہِیمُ بْنُ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : تُوُفِّیَ رَجُلٌ فَذُکِرَ عِنْدَ النَّبِیِّ فَأُثْنِیَ عَلَیْہِ خَیْرٌ ، فَقَالَ : وَجَبَتْ وَتُوُفِّیَ آخَرُ فَذُکِرَ مِنْہُ شَرٌّ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : عَجَبٌ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَبَتْ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : بَعْضٌ شُہَدَائُ عَلَی بَعْضٍ۔
(١٢١٢٣) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کا حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ذکر خیر ہوا تو حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس پر (جنت) واجب ہوگئی، دوسرے شخص کا انتقال ہوا تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس کا ذکر شر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس پر (جہنم) واجب ہوگی، کچھ حضرات نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہمیں آپ کے قول واجب ہوگئی سے تعجب ہوا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بعض لوگ بعض پر گواہ ہیں۔