(۱۲۱۳۷) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَلْقَمَۃَ ، أَنَّہُ دَخَلَ عَلَی صَدِیقٍ لَہُ مِنَ النَّخَعِ یَعُودُہُ ، فَمَسَحَ جَبِینَہُ فَوَجَدَہُ یَرْشَحُ فَضَحِکَ ، فَقَالَ لَہُ بَعْضُ الْقَوْمِ : مَا یَضْحَکُک یَا أَبَا شِبْلٍ ؟ قَالَ : ضَحِکْت مِنْ قَوْلِ عَبْدِ اللہِ : إنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا ، وَإِنَّہُ یَکُونُ قَدْ عَمِلَ السَّیِّئَۃَ فَیُشَدَّدُ عَلَیْہِ عِنْدَ الْمَوْتِ لِیَکُونَ بِہَا ، وَإِنَّ نَفْسَ الْکَافِرِ أوِ الْفَاجِرِ لَتَخْرُجُ مِنْ شِدْقِہِ کَمَا یَخْرُجُ نَفْسُ الْحِمَارِ ، وَإِنَّہُ یَکُونُ قَدْ عَمِلَ الْحَسَنَۃَ فَیُہَوَّنُ عَلَیْہِ عِنْدَ الْمَوْتِ لِیَکُونَ بِہَا۔
(١٢١٣٧) حضرت علقمہ اپنے ایک دوست کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے جس کو (بلغم کی) بیماری تھی، آپ نے اس کی پیشانی کو چھوا تو پسینہ نکل رہا تھا آپ یہ دیکھ کر ہنس پڑے، لوگوں میں سے بعض نے عرض کیا اے ابو شبل ! آپ کو کس چیز نے ہنسایا۔ فرمایا : مجھ کو عبداللہ کی بات پر ہنسی آگئی کہ مؤمن کو (جان کنی کے وقت) پسینہ نکلتا ہے تو اس کے کچھ برے عمل ہوتے ہیں تو ان کی وجہ سے اس پر موت کے وقت کچھ سختی ہوتی ہے تاکہ ان برائیوں کا کفارہ بن جائے، اور کافر وفاجر کی روح گدھے کے سانس کی طرح نکلتی ہے، کیونکہ اس کے بھی کچھ اچھے اعمال ہوتے ہیں تو موت کے وقت اس پر آسانی ہوتی ہے تاکہ یہ آسانی ان نیکیوں کا بدلہ ہوجائیں۔