(۱۲۱۵۰) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ : عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَیْہَا یَہُودِیَّۃٌ فَوَہَبَتْ لَہَا طِیبًا ، فَقَالَتْ : أَجَارَک اللَّہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، قَالَتْ : فَوَقَعَ فِی نَفْسِی مِنْ ذَلِکَ ، فَلَمَّا جَائَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ إنَّ فِی الْقَبْرِ عَذَابًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إنَّہُمْ لَیُعَذَّبُونَ فِی قُبُورِہِمْ عَذَابًا تَسْمَعُہُ الْبَہَائِمُ۔ (بخاری ۶۳۶۶۔ مسلم ۱۲۵)
(١٢١٥٠) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک یہودیہ خاتون آئی پس اس نے آپ کو خوشبو ھبہ کی، اس نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو عذاب قبر سے پناہ دے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میرے دل میں اس کے بارے میں خیال آیا، جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو میں نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا قبر میں عذاب ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں، بیشک وہ اپنی قبروں میں عذاب دیئے جاتے ہیں، جس کو بہائم سنتے ہیں۔