(۱۲۱۶۳) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَۃَ ، عَنْ أَسْمَائَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَقَدْ أُوحِیَ إلَیَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُونَ فِی الْقُبُورِ مِثْلَ ، أَوْ قَرِیبًا مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیحِ الدَّجَّالِ ، ثُمَّ یُؤْتَی أَحَدُکُمْ فَیُقَالُ لہ مَا عِلْمُک بِہَذَا الرَّجُلِ ، قَالَ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَیَقُولُ : ہو مُحَمَّدٌ ہُوَ رَسُولُ اللہِ ، جَائَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَالْہُدَی ، فَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا ، فَیُقَالُ : نَمْ صَالِحًا فَقَدْ عَلِمْنَا أَنَّک مُؤْمِنٌ بِاللَّہِ ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ ، أَوِ الْمُرْتَابُ لاَ أَدْرِی أَیَّ ذَلِکَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَیَقُولُ لاَ أَدْرِی ، سَمِعْت النَّاسَ قَالُوا قَوْلاً فَقُلْتُہُ۔ (بخاری ۸۶۔ مسلم ۱۲)
(١٢١٦٣) حضرت اسمائ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مرِی طرف وحی کی گئی ہے کہ بیشک تم لوگ قبروں میں آزمائے جاؤ گے (فتنہ میں مبتلا کئے جاؤ گے) اسی کے مثل یا مسیح دجال کے فتنہ کے قریب، پھر تم میں سے ایک کو لایا جائے گا اس کو کہا جائے گا، اس شخص کے بارے میں تو کیا جانتا ہے ؟ فرمایا مؤمن شخص کہے گا، یہ محمد ہں ں، اللہ کے رسول ہیں، جو ہمارے پاس واضح دلائل اور ہدایت لے کر آئے ہم نے اس کو قبول کیا اور ان کی اتباع کی، اس کو کہا جائے گا امن و سلامتی سے سو جا ہمیں معلوم تھا کہ تو اللہ پر ایمان لانے والا ہے، بہرحال منافق اور شک کرنے والا، (کہے گا) مجھے نہیں معلوم یہ کون ہیں، حضرت اسمائ فرماتی ہیں وہ کہے گا، مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تو میں نے بھی وہ کہہ دی۔