(۱۲۱۶۸) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ کَیْسَانَ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی قَبْرٍ فَوَقَفَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ : ائْتُونِی بِجَرِیدَتَیْنِ ، فَجَعَلَ إحْدَاہُمَا عِنْدَ رَأْسِہِ ، وَالأُخْرَی عِنْدَ رِجْلَیْہِ ، فَقِیلَ لَہُ : یَا رَسُولَ اللہِ أَیَنْفَعُہُ ذَلِکَ ؟ فَقَالَ : لَعَلَّہُ یُخَفِّفُ عَنْہُ بَعْضَ عَذَابِ الْقَبْرِ مَا فِیہِ نُدُوَّۃٌ۔ (احمد ۲/۴۴۱)
(١٢١٦٨) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک قبر کے پاس سے گزرے تو اس کے پاس کھڑے ہوگئے پھر فرمایا، میرے پاس دو کھجور کی لکڑیاں لے کر آؤ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کھجور کی لکڑی سر کے پاس اور دوسری پاؤں کے پاس گاڑ دی، عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا اس سے اس کو فائدہ ہوگا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : شاید کہ ان سے کچھ عذاب قبر میں کمی آجائے جب تک ان میں رطوبت باقی ہے، (جب تک کہ یہ تر ہیں) ۔